مہورت
بیاہ کا مہورت
زندگی کی سب سے اہم رسم بیاہ ہے۔ دو خاندانوں کو جوڑنے والے اس دن کے لیے نکشتر، تتھی، لگن اور دولہا دلہن کا زائچہ ملا کر مہورت نکالا جاتا ہے۔
- موافق نکشتر
- روہنی, مرگشیرا, مگھا, اترا پھالگنی, ہست, سواتی, انورادا, مول, اترا آشاڑھا, اترا بھادراپد, ریوتی
- موافق تتھیاں
- دوتیا، ترتیا، پنچمی، سپتمی، دشمی، ایکادشی، تریودشی
- جانچا گیا شہر
- لکھنؤ
بیاہ کے بارے میں
زندگی کی سب سے اہم رسم بیاہ ہے۔ دو خاندانوں کو جوڑنے والے اس دن کے لیے نکشتر، تتھی، لگن اور دولہا دلہن کا زائچہ ملا کر مہورت نکالا جاتا ہے۔
مضبوط بیاہ مہورت
روہنی، مرگشرا، مگھا، تینوں اترا، ہست، سواتی، انورادھا، مول اور ریوتی پسندیدہ نکشتر ہیں۔ پھیروں کا وقت ستھر یا دوسوبھاو لگن میں، ساتواں گھر پاک رہتے ہوئے رکھا جاتا ہے۔
دولہا دلہن کی جانچ
زائچہ ملانے کے بعد دونوں کے لیے تارا بل اور چندر بل والا دن چنا جاتا ہے۔ مشتری اور زہرہ کے غروب کے دنوں میں بیاہ نہیں کیے جاتے۔ مہورت پکا ہونے کے بعد ہی منڈپ اور دعوت ناموں کی تیاری ہوتی ہے۔
وقت کا انتخاب
مبارک دن ملنے کے بعد اس دن کا راہو کال، یم گنڈ اور گلک کال چھوڑ کر شبھ ہورا یا ابھیجت مہورت میں کام شروع کرنا روایت ہے۔ اصل لمحہ مضبوط ستھر لگن میں آئے، ایسا وقت پنڈت جی نکال کر دیتے ہیں۔
گھر کی تیاری
کام سے پہلے گھر صاف کر کے، دروازے پر آم کے پتوں کا بندن وار باندھ کر، دیوتا کے سامنے دیا جلا کر گنیش پوجا سے آغاز کرنے کا رواج ہے۔ کل دیوتا کو یاد کر کے بزرگوں کی دعا لینا نہ بھولیں۔
بیاہ کے شاستری اصول
موافق نکشتر: روہنی, مرگشیرا, مگھا, اترا پھالگنی, ہست, سواتی, انورادا, مول, اترا آشاڑھا, اترا بھادراپد, ریوتی۔ موافق تتھیاں: دوتیا، ترتیا، پنچمی، سپتمی، دشمی، ایکادشی، تریودشی۔ پرہیز: رکتا تتھیاں (چترتھی، نومی، چتردشی)، اماوسیا، بھرنی، کرتیکا، آشلیشا، جییشٹھا۔
دن کیسے چنے گئے
یہ فہرست لکھنؤ میں طلوع آفتاب کے وقت اس کام کے لیے موافق نکشتر اور تتھی دونوں رکھنے والے دن دکھاتی ہے۔ مکمل مہورت کے لیے وار، یوگ، کرن، لگن، راہو کال اور متعلقہ لوگوں کا زائچہ بھی دیکھا جاتا ہے؛ اس لیے اس فہرست سے دن چنیں اور ٹھیک وقت مہورت تلاش میں طے کریں۔
| تاریخ | نکشتر | تتھی |
|---|---|---|
| ہفتہ، ۲۴ اکتوبر، ۲۰۲۶ | اترا بھادرپد | تریودشی |
| جمعہ، ۳۰ اکتوبر، ۲۰۲۶ | مرگشرا | پنچمی |
| جمعرات، ۵ نومبر، ۲۰۲۶ | اترا پھالگنی | ایکادشی |
| بدھ، ۱۱ نومبر، ۲۰۲۶ | انورادھا | دوتیا |
| ہفتہ، ۲۱ نومبر، ۲۰۲۶ | اترا بھادرپد | ایکادشی |
| اتوار، ۲۲ نومبر، ۲۰۲۶ | ریوتی | تریودشی |
| جمعرات، ۲۶ نومبر، ۲۰۲۶ | مرگشرا | دوتیا |
| جمعرات، ۳ دسمبر، ۲۰۲۶ | اترا پھالگنی | دشمی |
| جمعہ، ۴ دسمبر، ۲۰۲۶ | ہست | ایکادشی |
| اتوار، ۶ دسمبر، ۲۰۲۶ | سواتی | تریودشی |
| ہفتہ، ۱۲ دسمبر، ۲۰۲۶ | اترا اشاڑھا | ترتیا |
| ہفتہ، ۱۹ دسمبر، ۲۰۲۶ | ریوتی | دشمی |
عام سوالات
بیاہ کے لیے کون سے نکشتر مبارک ہیں؟
روایت کے مطابق موافق نکشتر: روہنی, مرگشیرا, مگھا, اترا پھالگنی, ہست, سواتی, انورادا, مول, اترا آشاڑھا, اترا بھادراپد, ریوتی۔
بیاہ کے لیے کون سی تتھیاں مبارک ہیں؟
موافق تتھیاں: دوتیا، ترتیا، پنچمی، سپتمی، دشمی، ایکادشی، تریودشی۔ یہ دونوں پکش میں گنی جاتی ہیں۔
بیاہ میں کن باتوں سے بچنا چاہیے؟
شاستر ان سے بچنے کو کہتے ہیں: رکتا تتھیاں (چترتھی، نومی، چتردشی)، اماوسیا، بھرنی، کرتیکا، آشلیشا، جییشٹھا۔
کیا یہ دن ہر شہر کے لیے درست ہیں؟
دن لکھنؤ کے طلوع آفتاب پر جانچے گئے ہیں۔ نکشتر اور تتھی بدلنے کا لمحہ ہر جگہ ایک ہے مگر مقامی وقت الگ ہے، اس لیے اپنے شہر کا پنچانگ دیکھیں۔
کیا ذاتی مہورت پھر بھی ضروری ہے؟
بڑی رسموں کے لیے ہاں۔ تارا بل، چندر بل اور کام کا لگن متعلقہ لوگوں کے زائچے سے طے ہوتے ہیں۔
فہرست میں کتنے دن ہیں؟
اگلے ساٹھ دنوں میں وہ بارہ تک دن جن میں نکشتر اور تتھی دونوں اصول پورے ہوں۔
کیا راہو کال دیکھا گیا ہے؟
راہو کال پورے دن کا اصول نہیں، دن کا ایک حصہ ہے۔ ٹھیک وقت طے کرتے ہوئے اس سے بچیں؛ ہر دن کے پنچانگ صفحے پر یہ دیا گیا ہے۔
کیا دوسرے کاموں کے لیے بھی تلاش ہو سکتی ہے؟
ہاں۔ مہورت تلاش اور بہت سے کاموں کے لیے دن ترتیب سے دکھاتی ہے، اور آپ اپنی پیدائش کی تفصیل بھی جوڑ سکتے ہیں۔
کیا بیاہ کا مہورت ہمارے زائچے کے مطابق بدلا جا سکتا ہے؟
ہاں۔ عام مہورت سب کے لیے مبارک وقت دکھاتا ہے؛ گھر کے جیوتشی متعلقہ لوگوں کا جنم نکشتر اور چلتی دشا دیکھ کر ان میں سے بہترین وقت چنتے ہیں۔
مبارک دن نہ ملے تو بیاہ کیسے کریں؟
دستیاب دنوں میں سے بہترین دن چن کر، گنیش اور کل دیوتا کی پوجا سے شروع کر کے، اصل لمحے کو مضبوط لگن یا ابھیجت مہورت میں رکھنا روایت ہے۔
بیاہ کے لیے دن کا کون سا وقت اچھا ہے؟
عام طور پر صبح یا دوپہر سے پہلے کا وقت پسند کیا جاتا ہے۔ راہو کال، یم گنڈ اور گلک کال چھوڑ کر شبھ ہورا میں آغاز کرنے کا رواج ہے۔